ہوشیار انجینئر
شاہ جہاں بادشاہ کو خوب صورت اور شان دار عمارتیں بنوانے کا بڑا شوق تھا ٹھٹھہ کی
شاہ جہانی مسجد دہلی کا لال قلعہ اور سب سے بڑھ کر دنیا کی خوب صورت عمارت تاج محل اس کے اس ذوق کا شان دار نمونہ ہیں۔ شاہ جہاں نے جب اپنی بیوی ممتاز محل کی قبر پر تاج محل کی تعمیر کا فیصلہ کیا تو انجینیئروں نے کئی نقشے تیار کیے ۔ کہتے ہیں کہ خود بادشاہ نے خواب میں ایک مقبرہ دیکھا تھا جو اسے بہت پسند آیا تھا۔ اتفاق سے ایک انجنیر کا نقشہ ٹھیک اس کے مطابق نکلا۔ یہی جب بن گیا تو تاج محل کہلایا۔ انجنیر نے دبے الفاظ میں بادشاہ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس عمارت کی تعمیر پر بہت رپے خرچ ہوں گے اور وقت لگے گا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں بادشاہ اکتا کر اور خرچ سے گھبرا کر عمارت ادھوری نہ چھڑوا دے ۔ مگر جب بادشاہ نے تعمیر شروع کرنے کا حکم دیا تو انجنیر نے کئی لاکھ رپے پیشگی طلب کیے۔ اس زمانے میں نوٹ نہیں ہوتے تھے۔ ہزار ہزار روپے کی موٹی موٹی تھیلیاں ہوتی تھیں۔ بادشاہ نے انجنیئر کو خزانے سے یہ تھیلیاں دلوا دیں۔
اگلے روز انجنیئر نے وہ تھیلیاں ایک کشتی میں لدوائیں اور دریائے جمنا میں اس جگہ جہاں آج تاج محل کھڑا ہے ، پہنچ کر بہت سی تھیلیاں پانی میں پھنکوا دیں۔ اگلی صبح بھی اس نے
یہی کیا۔ یہ بات بادشاہ تک پہنچ گئی جسے سن کر وہ سخت ناراض ہوا اور اس نے انجنیر کو طلب کر لیا بادشاہ سخت غصے میں تھا۔ اس نے انجنیئر سے آتے ہی پوچھا، تم نے رپوں کی وہ تھیلیاں پانی میں کیوں پھنکوائیں؟
انجنیئر نے بڑے اطمینان سے جواب دیا، حضور برانہ ما نہیں۔ تاج محل جیسی عادت کی تعمیر کے لیے آپ کو یہ اسی طرح خرچ کرنا ہوگا اور بڑی ہمت سے کام لینا ہو گا۔ میں تو صرف آپ کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا۔ آپ کا
کر یہ محفوظ ہے۔ ان تھیلیوں میں پتھر بھرے تھے، نکلوا کر دیکھ لیجیے ؟ انجنیر کی یہ بات سن کر بادشاہ سخت شرمندہ ہوا اور اس نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی اس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ آخر کار انجنیر کی محنت اور بادشاہ کے حوصلے سے دنیا کی یہ شان دار اور حسین عمارت مکمل ہوگئی۔ سچ ہے بڑے کام کے لیے بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔

0 Comments